National Urdu Council’s Three-Day Seminar Titled ‘Future of Urdu Language in the Context of Developed India @2047’ inaugurated with dignity.
Urdu language has become the heartbeat of the new generation due to its natural appeal and sweetness: Arif Muhammad Khan
دستور ہند کے آرٹیکل 29 میں کسی بھی سماجی طبقے کو اپنی زبان اور تہذیب کے تحفظ کا حق حاصل ہے اور اس کا استعمال کرتے ہوئے ہم اپنی زبان کے تحفظ و فروغ کے لیے کلیتاً آزاد ہیں، بلکہ اس کے لیے احتجاج بھی کر سکتے ہیں ۔ پروفیسر فیضان مصطفی نے کہا کہ اگر ہندوستان کو وکست بھارت بننا ہے تو ساری زبانوں کا تحفظ ضروری ہے ، جن میں اردو بھی شامل ہے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ وکست بھارت میں کوئی بھی زبان نہیں مرے گی اور جو زبانیں مر گئی ہیں انھیں بھی زندگیِ نو ملے گی۔
‘اردو زبان کا مستقبل وکست بھارت @2047 کے تناظر میں ‘ کے عنوان سے قومی اردو کونسل کے سہ روزہ سمینار کا پر وقار افتتاح

اردو زبان اپنی فطری کشش و شیرینی کی وجہ سے نئی نسل کے دلوں کی دھڑکن بن چکی ہے : عارف محمد خاں
وکست بھارت کی تعمیر میں تمام ہندوستانی زبانوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا : ڈاکٹر شمس اقبال

MPNN Desk News
پٹنہ / نئی دہلی : قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان کے سہ روزہ قومی سمینار بعنوان ‘ اردو زبان کا مستقبل وکست بھارت @2047 کے تناظر میں ‘ کا باپو ٹاور گردنی باغ ، پٹنہ کے آڈیٹوریم میں آج پر وقار افتتاح عمل میں آیا۔ افتتاحی اجلاس کا باقاعدہ آغاز قومی ترانے اور شمع افروزی کے ساتھ ہوا ، اس کے بعد تمام مہمانوں کا شال پوشی اور کتابوں کا ہدیہ پیش کرکے استقبال کیا گیا۔
اس اجلاس میں بطور مہمان خصوصی و صدر خطاب کرتے ہوئے جناب عارف محمد خاں، گورنر بہار نے کہا کہ اردو زبان میں فطری طور پر ایسی قوت موجود ہے کہ وہ مستقبل میں پوری تابناکی کے ساتھ زندہ رہے گی۔ انھوں نے کہا کہ کوئی بھی زبان محض حکومت کی مہربانیوں سے زندہ نہیں رہ سکتی ، خود زبان والوں کو بھی اس حوالے سے اپنا فریضہ ادا کرنا چاہیے ۔ انھوں نے ہندوستان کی ثقافتی طاقت و رنگارنگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی انفرادیت کا اعتراف آج پوری دنیا میں کیا جا رہا ہے اور عالمی لیڈران بھی اس کو تسلیم کرتے ہیں، وہ یہ مانتے ہیں کہ مغرب ہندوستان کو ہرا نہیں سکتا کیوں کہ ہندوستان کی جڑوں میں روحانیت کی قدریں پوشیدہ ہیں ۔ عارف محمد خاں نے مزید کہا کہ ہمیں بدلتے ہوئے دور کے لیے اپنے آپ کو تیار کرنے کی ضرورت ہے، تقلید اور تخلیق ایک دوسرے کی ضد ہیں ، بغیر تخلیق کے ہم آگے نہیں بڑھ سکتے ۔ انھوں نے کہا کہ میرا کامل یقین ہے کہ اردو کبھی نہیں مرے گی، اس لیے نہیں کہ اسے سرکاری سرپرستی حاصل ہے بلکہ اس لیے کہ یہ زبان آج کی نوجوان نسل کے دلوں کی دھڑکن بن چکی ہے۔ اردو اپنی ذاتی لطافت اور شیرینی کی وجہ سے لوگوں کو اپنی طرف مائل کر رہی ہے اور یہی اس کی بقا کی ضمانت ہے۔
For Related news Read down click
![]()
![]()
![]()
![]()
Urdu – All India Kshtriye Society Seminar -آل انڈیا راجپوت سوسائٹی کا سیمینار
قبل ازاں قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ وکست بھارت ایک اجتماعی خواب ہے جسے شرمندۂ تعبیر کرنے میں ملک کے تمام طبقات کو حصہ لینا ہے ۔ اس خواب کو حقیقت سے بدلنے میں ہندوستانی زبانوں کا بھی غیر معمولی کردار ہوگا ، جن میں اردو زبان خاص طور پر قابل ذکر ہے کیوں کہ اس زبان نے ہمیشہ ملکی تقاضوں کی تکمیل کی ہے اور قومی ہم آہنگی و یکجہتی کو فروغ دینے میں سرگرم رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان کے فکری و ثقافتی تانے بانے کے فروغ میں اردو نے ہمیشہ ایک مستحکم رول ادا کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اردو ادیبوں نے ہمیشہ قوم کی رہنمائی کی ہے، مگر اب بزمِ جہاں کا انداز بدل رہا ہے اس لیے ہمیں اپنے ادب میں بھی بدلاؤ لانا ہوگا۔ ڈاکٹر شمس اقبال نے کہا کہ ادب کو معاصر عہد کے معاملات و مسائل کی ترجمانی بھی کرنی چاہیے، ہمیں مستقبل پسندانہ سوچ اپنانا ہوگا اور دوسری زبانوں کے علوم و فنون کو بھی اردو کا حصہ بنانا ہوگا ، یہ اقدامات ہی وکست بھارت کی تعمیر میں ہماری زبان کے کردار کو معنویت بخشیں گے۔
Please for more reading click down link
![]()
![]()
![]()
![]()
پروگرام کی مہمان اعزازی محترمہ کامنا پرساد نے اپنے خطاب میں کہا کہ اردو کا ماضی تابناک رہا ہے اور مستقبل بھی روشن ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ اردو کی ادبی و ثقافتی روایتیں ہمہ گیر ترقی کی داعی ہیں ، یہ زبان گنگا و جمنا کو باہم آمیز کرتی اور دیر و حرم کے فاصلوں کو مٹاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ہندوستان کی ہم سفری کے لیے بھی اردو اپنا رخت سفر باندھ چکی ہے اور بھارت کو وکست کرنے میں اس زبان کا اہم رول ہوگا، کیوں کہ یہ زبان نئے ذہنوں کی نمایندگی کرتی ہے اور اس کا دامن ہندوستان کی درجنوں زبانوں کے ساتھ دنیا بھر کی زبانوں کے الفاظ سے مالامال ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ہندوستان میں اردو کی بقا اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہماری ثقافت، سماج ، زندگی اور ہمارے وجود کے تمام پہلوؤں سے مربوط ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ زبان ہندوستان کے ڈی این اے میں شامل ہے، جب تک دنیا میں عشق باقی ہے، عشق کی خواہش باقی ہے ، مے باقی ہے ماہتاب باقی ہے تب تک اردو زبان باقی رہے گی۔
مہمان اعزازی پروفیسر فیضان مصطفی نے اپنے خطاب میں کہا کہ وکست بھارت میں زبانوں کا تحفظ اور ان کی بقا ایک اہم مسئلہ ہوگا، اس لیے ہمیں اس حوالے سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ زبانوں کو درپیش خطرات کو سمجھنے اور ان کی حفاظت کے تعلق سے نہایت مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ آج کئی کلاسیکی اور اہم ہندوستانی زبانیں نہایت سنگین خطرات سے دوچار ہیں ، اس ذیل میں اردو زبان کے مستقبل کے بارے میں بھی سوچنا نہایت ضروری ہے۔ دستور ہند کے آرٹیکل 29 میں کسی بھی سماجی طبقے کو اپنی زبان اور تہذیب کے تحفظ کا حق حاصل ہے اور اس کا استعمال کرتے ہوئے ہم اپنی زبان کے تحفظ و فروغ کے لیے کلیتاً آزاد ہیں، بلکہ اس کے لیے احتجاج بھی کر سکتے ہیں ۔ پروفیسر فیضان مصطفی نے کہا کہ اگر ہندوستان کو وکست بھارت بننا ہے تو ساری زبانوں کا تحفظ ضروری ہے ، جن میں اردو بھی شامل ہے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ وکست بھارت میں کوئی بھی زبان نہیں مرے گی اور جو زبانیں مر گئی ہیں انھیں بھی زندگیِ نو ملے گی۔
مہمان ذی وقار معروف فکشن نگار سید محمد اشرف نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اردو کو اگلے پچیس سالوں میں مثبت، معنی خیز اور کارگر کردار اداکرنا چاہیے اور اس کے لیے اردو کمیونٹی کے مسائل و حالات میں تبدیلی اور بہتری آنا ضروری ہے، کیوں کہ زبانوں کے فروغ میں معاشی و سماجی بہتری و خوشحالی کا اہم کردار ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ حال کے تئیں مایوسی کفر ہے، مگر حقیقت پسندی سے بھی کام لینے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے اردو کی بقا کے لیے تعلیمی و تدریسی سطح پر اس کی مؤثر تنفیذ کو ضروری قرار دیا ۔ انھوں نے کہا کہ پرائمری و سکینڈری سطح پر خصوصا اس کا چراغ جلانے کی ضرورت ہے تبھی وکست بھارت کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے میں ہم کامیاب ہوسکتے ہیں ۔
اس اجلاس کی نظامت ڈاکٹر شگفتہ یاسمین نے نہایت خوب صورتی سے کی اور قومی ترانے کے ساتھ اس کا اختتام عمل میں آیا ۔
افتتاحی اجلاس کے بعد ‘ شامِ افسانہ’ کا اہتمام کیا گیا ، جس کی صدارت پروفیسر اعجاز علی ارشد نے اور نظامت پروفیسر صفدر امام قادری نے کی اور سید محمد اشرف، ذکیہ مشہدی اور پروفیسر غضنفر نے اپنے افسانے پیش کیے ۔

