اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی ناکامی پر غور کرنے کی ضرورت ۔ڈاکٹر ایوب سرجن

پیس پارٹی کے قومی صدرنے کہا کہ مسلمان مبینہ سیکولر پارٹیوں کے شکنجے سے باہر آکر اپنی قیادت کو ترجیح دیں اور اپنی کامیابی کی راہ ہموار کریں

کانگریس راجستھان و چھتیس گڑھ میں زیر اقتدار تھی ،کیا وہ اپنے دورے اقتدار میں آئین و جمہوریت کی پاسداری کرکے عوام کی توقعات پر کھری اتری ؟

پرتاپ گڑھ: ملک کی تین ریاستوں کے اسمبلی انتخاب کے نتائج سے جہاں عوام میں یہ تاثر ضرور ہے کہ کانگریس کی حکمت عملی ناکام ثابت ہوئی ،وہیں ابھی تک یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ سیکولر پارٹیوں کی ناکامی کا سبب مسلم سیاسی پارٹیاں ہیں، جنہوں نے ووٹ کاٹ کر بی جے پی کو فائدہ پہونچایا ہے ،مگر جن ریاستوں (مدھیہ پردیش ،راجستھان و چھتیس گڑھ ) میں کانگریس ناکام ہوئی ہے وہاں تو کوئی مسلم سیاسی پارٹی میدان میں نہیں تھی ۔سوال یہ ہے کہ پھر کیوں کان گریس ناکام ہوئی ! جس پر مسلمانوں کو نظر ثانی کی ضرورت ہے کہ وہ کب تک مبینہ سیکولر پارٹیوں کی حمایت کرکے اپنی ناکامی کا منہ دیکھتے رہیں گے۔ اب بھی وقت ہے مسلمانوں مبینہ سیکولر پارٹیوں کے شکنجے سے باہر آکر اپنی قیادت کو ترجیح دے کر اپنی کامیابی کی راہ ہموار بنائیں۔ پیس پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر ایوب سرجن نے تین ریاستوں کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے ان تاثرات کا اظہار کیا۔
ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ کانگریس راجستھان و چھتیس گڑھ میں زیر اقتدار تھی ،کیا وہ اپنے دورے اقتدار میں آئین و جمہوریت کی پاسداری کرکے عوام کی توقعات پر کھری اتری ؟ کیا اس نے پوری طرح سے سیکولرازم پر عمل کیا ؟ یہ سارے سوال لوگوں کے ذہنوں میں گشت کر رہے ہیں ۔جہاں تک بی جے پی کا سوال ہے اس کی سیاست تو پوری طرح فسطایت پر مبنی ہے ،اور اس کے پاس کوئی واضح ایشو نہیں ہے ،اس نے پورے انتخاب میں ہندوتو ایجنڈے کو ایشو بنایا اور اس میں اسے کامیابی ملی ۔ سوال اب یہ ہےکہ کیا اکثریت جمہوریت و سیکولرازم کو ترک کرکے ہندوتوا کی راہ پر گامزن ہوگئی ہے ایسا نہیں ہے عوام کے سامنے اہم مسائل مہنگائی و بیروزگاری وغیرہ ہے ،جس پر کانگریس عوام کی نظر مرکوز کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے ۔
ملک کی اکثریت کا مزاج سیکولر ہے اس میں کوئی شک نہیں مگر اپوزیشن کی سیاست کو زنگ لگ چکا ہے ،اور وہ بی جے پی کی سیاست کے آگے معذور ثابت ہو رہے ہیں ۔حقیقت یہ ہے کہ اگر مسلم ووٹ کانگریس کا سہارا نہ ہوتے تو آج اس کی ضمانت ضبط ہو چکی ہوتی ،کانگریس کو اپوزیشن میں بیٹھنے کے قابل مسلمانوں کے ووٹوں نے بنایا ،لیکن کانگریس یہ کبھی تسلیم نہیں کرے گی ۔انہوں نے مسلمانوں کا انتباہ کیا کہ جب تک وہ اپنی قیادت پر اعتماد نہیں کریں گے ان کے ووٹوں کی قیمت گھٹتی جائے گی۔ مبینہ سیکولر پارٹیاں کبھی بھی اپنی کامیابی کا سہرہ مسلمانوں سر نہیں باندھیں گی ،اور نہ ہی اقتدار میں آنے پر انہیں ترجیح دیں گی ۔ اپوزیشن پارٹیاں بی جے پی سے خوفزدہ ہے ،جس کے سبب انتخاب میں وہ موثر طریقے میدان میں نہیں اترتی ہیں ،سبھی سیکولر پارٹیاں صرف مسلم ووٹوں پر منحصر رہتی ہیں ،ایسے میں کیا مسلمانوں پر ہی جمیوریت و سیکولریزم کی بقاء کی ذمہ داری ہے ؟ ڈاکٹر ایوب نے کہا کہ مسلمانوں کو سیاسی حالات و انتخابی نتائج کو دیکھتے ہوئے اس پر نظرثانی کی ضرورت ہے ۔ مسلمان اپنے روشن سیاسی مستقبل کے لئے اپنی قیادت کو تسلیم کر اپنی کامیابی کی راہ ہموار بنائیں۔

ZEA
Leave A Reply

Your email address will not be published.