آسام یونیورسٹی، دو روزہ بین الاقوامی غالب سمینار
मुझे खुशी है कि गालिब इंस्टीट्यूट जैसी सक्रिय संस्था ने यहां एक अंतरराष्ट्रीय सेमिनार की योजना बनाई है और हमने इसका हर सम्भव समर्थन करने का प्रयास किया है - राजीव मोहन पंत
مجھے خوشی ہے غالب انسٹی ٹیوٹ جیسے فعال ادارے نے یہاں بین الاقوامی سمینار کا منصوبہ بنایا اور ہم نے اس کے انعقاد میں ہر ممکن تعاون کرنے کی کوشش کی ہے۔
غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام بہ تعاون شعبہئ اردو آسام یونیورسٹی دو روزہ بین الاقوامی
سمینار کا افتتاح
MPNN – AINA INDIA
نئی دلّی 7/اگست2024
غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام بہ تعاون شعبہئ اردو آسام یونیورسٹی، دو روزہ بین الاقوامی غالب سمینار بعنوان ’غالب کے خطوط کی ادبی اور ثقافتی اہمیت‘ کا افتتاحی اجلاس آج بپن چندر پال آڈیٹوریم، آسام یونیورسٹی سلچر میں منعقد ہوا۔ سمینار کا افتتاح آسام یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر راجیو موہن پنت نے کیا۔ افتتاحی تقریر کے دوران انھوں نے کہا کہ غالب ہندستان کے سب سے مقبول شاعر ہیں ان کی شاعری کا جادو ادب سے دلچسپی رکھنے والے ہر شخص پر ہے خواہ وہ کوئی بھی زبان استعمال کرتا ہو۔ مجھے خوشی ہے غالب انسٹی ٹیوٹ جیسے فعال ادارے نے یہاں بین الاقوامی سمینار کا منصوبہ بنایا اور ہم نے اس کے انعقاد میں ہر ممکن تعاون کرنے کی کوشش کی ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ سمینار بہت کامیاب ہوگا۔ افتتاحی اجلاس کے صدر اور غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمٰن قدوائی نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ غالب انسٹی ٹیوٹ کا قیام جن مقاصد کے تحت عمل میں آیا تھا یہ ادارہ پورے جذبے کے ساتھ اس مقصد کے حصول کے لیے سرگرم عمل ہے۔ سمینار کے مہمان خصوصی جناب آر چندرناتھن، سابق ڈائرکٹر جنرل، میگھالیہ پولیس نے کہا کہ غالب کی شاعری کی طرح ان کی نثر میں بھی جدت اور تاثیر ہے۔ غالب نے اپنے لیے جس وسیلے کو بھی منتخب کیا اس میں تقلید سے زیادہ نئے تجربے کو راہ دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی نثر ہو یا نظم ایک نئے رجحان کو پیش کرتی ہے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ادریس احمد نے کہا کہ غالب انسٹی ٹیوٹ کے قیام کا بنیادی مقصد غالب اور عہد غالب سے متعلق لٹریچر کو شائع کرنا اور اس پر نئے سرے سے غور و فکر کی راہ ہموار کرنا ہے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ سال میں دو مرتبہ دہلی سے باہر سمینار کا انعقاد کرتا ہے۔ اس مرتبہ یہ سمینار آسام میں ہو رہا ہے۔ میں یہاں کے وائس چانسلر اور صدر شعبہ کا نہایت ممنون ہوں جن کے تعاون کے بغیر اتنے شاندار سمینار کا انعقاد ممکن نہیں تھا۔ ڈاکٹر جاوید رحمانی صدر شعبہئ اردو، آسام یونیورسٹی نے کہا کہ غالب کا مطالعہ تنہا غالب کا مطالعہ نہیں ایک پوری روایت کی تفہیم ہے۔ شعر کی تفہیم کا شاید ہی کوئی زاویہ ہو جس کے ذریعے غالب کا کلام نہ دیکھا گیا ہو۔ یہی معاملہ ان کی نثر کا بھی ہے۔ ان کی قرات و تفہیم ادبی، سماجی اور ثقافتی نقطہئ نظر سے کی گئی ہے لیکن اس میں ابھی گفتگو کے بہت سارے امکان موجود ہیں۔ میں غالب انسٹی ٹیوٹ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنھوں نے ہماری یونیورسٹی کا انتخاب کیا۔ پروفیسر پیوش پانڈے نے کہا کہ ہم نے غالب کو ایک فلسفے کے طور پر پڑھا ہے اور انھوں نے ہمیں بہت جگہ گمراہیوں سے بچایا ہے۔ غالب کے خطوط اردو نثر کا قیمتی سرمایہ ہے غدر کے حالات ہوں یا دہلی کی تہذیبی زندگی ہر زاویے سے ان خطوط کی اہمیت مسلم ہے۔ افتتاحی اجلاس کے بعد شام غزل کا اہتمام کیا گیا جس میں شعبہئ پرففارمنگ آرٹس و محفل کے فنکاروں نے کلام غالب پیش کیا۔ سمینار کے ادبی اجلاس 8/ اگست کو صبح 10 بجے سے شام 5بجے تک بپن چندر پال آڈیٹوریم میں منعقد ہوں گے۔ جن مقالہ نگاروں کی سمینار میں شرکت متوقع ہے ان کے نام اس طرح ہیں: پروفیسر غلام ربانی، پروفیسر رشید احمد، جناب لبیب عبداللہ (بنگلہ دیش)، پروفیسر عبدالرزاق، پروفیسر شیتانشو کمار، ڈاکٹر نصرالدین خاں، پروفیسر کرشن موہن جھا، ڈاکٹر جاوید رحمانی، ڈاکٹر رضی شہاب، ڈاکٹر ساجد ذکی فہمی، ڈاکٹر مرلی باسا، ڈاکٹر منیش تومر، ڈاکٹر محمد انصر، ڈاکٹر ابوایمن رضوان الحق، ڈاکٹر شمس الاسلام، ڈاکٹر افتخار احمد، جناب نور احمد نور، محترمہ فرحین خانم، جناب راحیل فریدی۔ 8/ اگست کو شام 7بجے مشاعرے کا انعقاد ہوگا جس کی صدارت جناب لبیب عبد اللہ کریں گے نظامت کے فرائض ڈاکٹر رضی شہاب ادا کریں گے۔

تصویر میں دائیں سے: پروفیسر راجیو موہن پنت، ڈاکٹر ادریس احمد، ڈاکٹر جاوید رحمانی، پروفیسر پیوش پانڈے

تصویر میں دائیں سے: پروفیسر راجیو موہن پنت، ڈاکٹر ادریس احمد، ڈاکٹر جاوید رحمانی، پروفیسر پیوش پانڈے


Comments are closed.